میسورو،25؍مارچ(ایس او نیوز) سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا کی قیادت والی جے ڈی ایس کو شدید دھچکا پہنچاتے ہوئے پارٹی کے 7باغی سابق ارکان اسمبلی نے اے آئی سی سی صدر راہل گاندھی کی موجودگی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ جے ڈی ایس کے باغی ارکان اسمبلی نے کل اسمبلی کو اپنے استعفے پیش کردئے تھے ۔
میسور کے مہاراجہ کالج میدان میں کانگریس کی جانب سے عظیم الشان’’جنا آشیرواد یاتر ا‘‘ منعقد کی گئی ۔ اس موقع پر جنتا دل ( یس ) سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شامل ہونے والے 7اراکین اسمبلی کو کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے گلپوشی کرکے کانگریس پارٹی میں شامل کرلیا اور تمام اراکین اسمبلی کو مبارکباد پیش کی۔ جناب ضمیر احمد خان نے جواب میں راہل گاندھی کی گلپوشی کی ۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ سدرامیا، کانگریس کے جنرل سکریٹری وینو گوپال، شری ملیکارجن کھرگے، جناب کے رحمن خان، کے ایچ منی اپا، میسور ضلع کے انچارج وزیر ڈاکٹڑ ایچ سی مہادیواپا، کے پی سی سی کے صدر ڈاکٹر جی پرمیشور ، ریاستی وزراء آر روشن بیگ، تنویر سیٹھ، سابق مرکزی وزیر و یم یل سی جناب سی یم ابراہیم، ڈی کے شیو کمار ، ڈاکٹرگیتا مہادیو پرساد م شری بی کے ہری پرساد اور دوسرے کئی کانگریسی قائدین موجود تھے اور تمام نے کانگریس میں شامل ہونے جنتا دل ( یس ) کے 7ارکین اسمبلی بی زیڈ ضمیراحمدخان ،این چلوارایا سوامی، ایچ سی بال کرشنا، اکھنڈ سرینواس مورتی، بھیمانائک ،رمیش بنڈے سدے گوڈا ،اقبال انصاری ،سرودسرینواس، رامیش کرشنا اورایم سی نانیاکو مبارکباد پیش کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر راہل گاندھی نے کہا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ ، بسونا، سر یم ویشوریا، اور کوئمپونے ہمیں نیک راہ دکھائی ہے اور ہم انہیں نیک اصولوں پر چلتے ہوئے اس دیش کو ترقی کی جانب لے جانے کی کوشش کریں گے۔ راہل نے کہا کہ ہم اس دیش کے باشندوں کا پیسہ لے کرواپس انہیں غریب اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں لیکن وزیر اعظم نریندر مودی غریب افراد کا پیسہ وصول کرکے دیش کے چند گنے چنے بینکوں کو لوٹنے والے دولتمندوں کی مدد کرتے ہیں۔ راہل نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کے قائدین پر الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جہاں بھی جاتے ہیں ۔صرف جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے ۔جبکہ ایک سوسالہ تاریخ رکھنے والی کانگریس پارٹی جو کہتی ہے وہ کردکھا تی ہے۔ مودی صرف جھوٹ بول کر چلے جاتے ہیں۔ انہیں ہندوستان کے غریب کسانوں سے زیادہ ہمارے دیش کی مختلف بینکوں کو دھوکہ دینے والے چند 5یا6 دولت مندوں کی زیادہ فکر ہے۔ وزیر اعظم نے انتخابات سے پہلے ہر ایک کے بینک کھاتے میں 15لاکھ روپئے ڈالنے کا وعدہ کیا تھا ، چار سال پورے ہوگئے لیکن آج تک 15روپئے بھی نہیں آئے ۔ اس کے علاوہ ہر سال دو کروڑ روزگار کے موقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔کانگریس صدر نے مزید کہا کہ آج ہمارے دیش میں ہر جگہ چین کے اشیاء کا بازار گرم ہے۔حال ہی میں جب چین کے وزیر اعظم نے گجرات کا دورہ کیاتھا تو وہ ہمارے وزیر اعظم کے ساتھ جھولا جھول رہے تھے اور چین کے ایک ہزار فوجی چین کا بارڈر پار کرکے ہندوستان میں تھے۔ جب اس دیش پر یو پی اے کی حکومت تھی تو جموں کشمیر میں ایک بھی فوجی یا کشمیری ہلاک نہیں ہوتا تھا لیکن آج ہردن سینکڑوں فوجی اور کشمیری ہلاک ہورہے ہیں۔ کانگریس کے دور اقتدار میں پارٹی کے قائدین نے بینکوں کو دیہاتوں تک پہنچا یا تھا تاکہ غریب اور ضرورت مندوں کی مالی امداد ہوسکے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کا اعلان کرکے عام آدمی کو بینکوں کے باہر دھوپ میں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا کردیا اور ان قطاروں میں ایک بھی دولت مند نظر نہیں آیا اس طرح نریندر نے نوٹ بندی کے ذریعہ ان دولتمندوں کے کالے دھن کو سفید دھن بنانے میں پوری مدد کی۔ چند گنے چنے افراد کروڑوں روپئے بینکوں سے لے کر دیش سے فرار ہوجاتے ہیں لیکن دیش کا چوکیدار تماشائی بن کر دیکھتا رہ گیا۔ وزیر اعظم مودی نے اس دیش کے بینکوں کے نظام کو تباہ و برباد کردیا ابھی دو تین ماہ کے بعد مزید گھوٹالے سامنے آئیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین رشوت خوری کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں جبکہ ان کے اسٹیج پر ایک سابق وزیر اعلیٰ اور چار سابق ریاستی وزراء موجود رہتے ہیں۔ میں نے پہلی مرتبہ پی ایم اوکو جاکر کسانوں کے قرضوں کو معاف کرنے کی اپیل کی لیکن آج تک جواب نہیں آیا اور اسی طرح میں نے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدرامیا سے کسانوں کے قرضوں کو معاف کرنے کی درخواست کی توسدارامیا نے صرف10 منٹ میں8000کروڑ کے کسانوں کے قرضوں کو معاف کردیا۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے اپنی چند بہترین فلاحی اسکیموں کے ذریعہ ایک بہترین انتظامیہ فراہم کیا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر و یم یل سی جناب سی یم ابراہیم نے کہا کہ جب سے وزیراعظم نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر یس یس کے کارکنوں کو پنکھ لگ گئے ہیں اور ہندوستان کے آئین کوتبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ بابا صاحب امبیڈ کر کی جانب سے لکھے گئے آئین کو تبدیل کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔وزیر اعٖظم ہر جگہ کہتے ہیں کہ سارے دیش میں ریاست گجرات ایک ماڈل ہے۔ اگر گجرات کی حالت اچھی ہے تو پھر گجرات کے لوگ کرناٹک کو آکر پانی پوری فروخت کرکے زندگی کیوں گزارتے۔سی یم ابراہیم نے کہا ہے سدارامیا نے اپنی چند بہترین اسکیموں کے ذریعہ ایک بہترین انتظامیہ فراہم کیا ہے۔ اور خاص کر لڑکیوں کو پہلی جماعت سے اعلیٰ درجوں تک مفت تعلیم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان لڑکیوں کو اپنے اپنے گھروں سے اسکولوں اور کالج تک بغیر کسی ٹکٹ کے تعلیم حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی وزیر الحاج آر روشن بیگ صاحب نے اس موقع پرنامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عنقریب ریاست میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس اپنے طور پردوبارہ اقتدار بحال کرے گی۔سدارامیا حقیقی سکیولراز م کے علمبردار ہیں اور اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے ہمدرد وزیر اعلیٰ ہیں۔ اس موقع پر آرروشن بیگ نے ریاست کے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹوں کو ضائع نہ کریں او اپنی ذمہ داری سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔اور اپنے ووٹوں کو کسی بھی قیمت پر تقسیم ہونے نہ دیں۔کے رحمن خان، ریاستی وزراء ڈاکٹر گیتا مہادیوپرساد ، ڈی کے شیوکمار ، رکن پارلیمان دھروانارائن ، میسورو سٹی کانگریس کمیٹی کے صدر آر مورتی اور دوسرے کئی کانگریسی قائدین اس موقع پر موجود تھے۔میسور ضلع کے انچارج وزیر ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا نے خیرمقدمی خطاب کیا اورکے پی سی سی کے صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے بھی خطاب کیا۔